نئی دہلی، 4/مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کرناٹک میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کی پارٹی جنتادل (ایس)کے ساتھ اتحاد کرنے پر غور کر رہی ہے۔دراصل کانگریس کے کچھ لیڈر ان چاہتے ہیں کہ بہار کی طرح کا مہاگٹھ بندھن کرناٹک میں بھی بنایا جائے، باوجود اس کے کہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی سے اتحاد کے بعدبھی کانگریس کو کراری شکست جھیلنی پڑی۔کرناٹک میں بنیادی طور پر تین ہی پارٹیاں ہیں، ان تینوں کے درمیان آخری بار بھی سہ رخی مقابلہ ہوا تھا۔کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ تیسری پارٹی سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کی جے ڈی ایس ہی ہے۔اسی کے ساتھ اتحاد کے لیے کانگریس نے حال میں کے سی وینو گوپال کو انچارج جنرل سکریٹری مقرر کیا ہے۔ان کے ساتھ راہل گاندھی کے سب سے قریبی دو لیڈر مدھو یاکچھی گوڑ اور مانیکا ٹیگور کوسکریٹری کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ کرناٹک کے نئے انچارج لیڈر اتحاد کی رائے کے خلاف نہیں ہیں،پارٹی ہائی کمان نے انہیں اس بارے میں فیصلہ کرنے کی چھوٹ بھی دے دی ہے۔وہیں مقامی لیڈر ان بھی کرناٹک میں مہاگٹھ بند ھن کے حق میں ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اگر کانگریس اور جے ڈی ایس ایک ساتھ مل کرالیکشن لڑے، تو بی جے پی کو روکا جا سکتا ہے۔دراصل ریاست میں کانگریس کو پانچ سال کی حکومت مخالف لہر کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے، وہیں جے ڈی ایس کی تشویش یہ ہے کہ بی جے پی نے بڑے ووکا لنگالیڈر ایس ایم کرشنا کو اپنی پارٹی میں لیا ہے اور انتخابات سے پہلے انہیں کوئی عہدہ بھی دے سکتی ہے۔اس سے دیوگوڑا کو اپنے ووٹ بینک میں نقب لگنے کا خطرہ ہے، لیکن اگر ان کی پارٹی کا کانگریس سے اتحاد ہو جائے تو ان کا ووٹ بینک بچ جائے گا۔مشکل صرف سیٹوں کی تقسیم میں ہے،دونوں پارٹیاں بڑی ہیں اور دیوگوڑا کی پارٹی کم از کم 100 نشست کا مطالبہ کرے گی۔ 225رکنی اسمبلی میں کانگریس کے 123رکن ہیں اور جے ڈی ایس کے 40رکن ہیں، کانگریس کم از کم 150 سیٹوں پر لڑے گی۔ایسے میں اگر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو جے ڈی ایس کو 75سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی۔ذرائع کے مطابق،کانگریس پہلے صرف 50سیٹوں کی تجویز دینے پر غور کر رہی ہے۔